زمین بوسی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - [ تعظیما ]  کسی کے سامنے جھکنا، جھک کر آداب بجا لانا، قدم چومنا۔ "آداب شاہی بجا لایا زمین بوس ہوا۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ١٩١:٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'زمین' کے ساتھ فارسی صفت 'بوس' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب 'زمین بوسی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٠٤ء کو "مقالات شبلی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ تعظیما ]  کسی کے سامنے جھکنا، جھک کر آداب بجا لانا، قدم چومنا۔ "آداب شاہی بجا لایا زمین بوس ہوا۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ١٩١:٣ )

جنس: مؤنث